نئی دہلی،31؍جنوری (ایس او نیوز؍ایجنسی) یوم جمہوریہ کے موقع پر دہلی میں کسانوں کی ٹریکٹر ریلی کے دوران ہونے والے تشدد کے بعد انتظامیہ کی طرف سے کسانوں کی تحریک کو کچلنے اور آواز دبانے کی جو مبینہ کوشش ہوئی تھی، نتیجتاً تحریک دم توڑنے کے بجائے اس میں مزید جان پڑگئی ہے۔ بالخصوص کسان رہنما راکیش ٹکیٹ کی اپیل کے بعد غازی پور بارڈر پراحتجاجیوں میں روز بروز مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ کسانوں کے بڑھتے جم غفیر کو دیکھتے ہوئے پولیس انتظامیہ کے ہاتھ پاؤں پھولنے لگ گئے ہیں۔جس کے بعد پولیس نے غازی پور بارڈر پر سیکورٹی سخت کر دی ہے۔
ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ احتجاجیوں کی تعداد کو دیکھتے ہوئے غازی پور بارڈر پر راتوں رات 12 لیئر کی بیریکیڈنگ کئ گئی ہے۔ نیز، پولیس کی طرف سے نوکیلے تاروں کو بھی لگایا گیا ہے۔ این ایچ 24 کو مکمل طور پر بند کردیا گیا ہے۔ نوئیڈا سیکٹر 62 سے اکشردھام جانے والی سڑک بھی مکمل طور پر بند کردی گئی ہے۔
دوسری طرف، کسانوں کے ذریعہ مستقل طور پر تحریک کو تیز کرنے کی کوشش جاری ہے۔ دہلی میں یوم جمہوریہ کے موقع پر کسان ٹریکٹر پریڈ کے دوران تشدد کے بعد یوپی، پنجاب اور ہریانہ میں مہا پنچایتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ پنچایتوں کا بنیادی مقصد تحریک کو مزید تیز کرنا ہے۔ کسان پوری مضبوطی کے ساتھ ایک بار پھر دہلی پہنچ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دہلی پولیس نے کسانوں کو ریاست میں داخل ہونے سے روکنے کے لئے بھی تیاریاں کرلی ہیں۔ غازی پور بارڈر کو قلعے میں تبدیل کردیا گیا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ دہلی میں ہوئے تشدد کے بعد غازی پور بارڈر پر مظاہرہ کر رہے کسانوں پر احتجاج کی جگہ خالی کرنے کے لئے دباؤ ڈالا گیا تھا۔ اس کے بعد یہ محسوس کیا گیا کہ کسان تحریک کچھ گھنٹوں کی مہمان ہے، لیکن راکیش ٹکیٹ کے آنسوؤں نے پوری تصویر ہی بدل کر رکھ دی وہ بضد ہوگئے اور انہوں نے کہا کہ چاہے کچھ بھی ہو، وہ احتجاج کا مقام خالی نہیں کریں گے۔ انہوں نے جو اپیل کی اس کا اثر یہ ہوا کہ کہ راتوں رات مغربی اتر پردیش کے کسان بڑی تعداد میں غازی پور بارڈر پر پہنچ گئے اور دم توڑتی تحریک میں نئی جان ڈال دی۔